اخبارانڈر-19ایتھلیٹ کارنرپردیس میں پاکستانسٹوڈنٹ کارنرسدا بہارلائم لائٹہوم سویٹ ہوم

لاک ڈاؤن کے دوران رینٹ اے کار کا کاروبار کرنے والوں کی چاندی  

[ad_1]

مسافروں کو کراچی سے مختلف شہروں تک پہنچانے کیلیے فی سواری بالترتیب 15سے17ہزار روپے وصول کیے جارہے ہیں

مسافروں کو کراچی سے مختلف شہروں تک پہنچانے کیلیے فی سواری بالترتیب 15سے17ہزار روپے وصول کیے جارہے ہیں

کراچی: ملک میں جاری لاک ڈاون کے باعث رینٹ اے کار کا کاروبار کرنے والوں کی چاندی ہوگئی ہے۔

لاک ڈاون کے سیزن میں رینٹ اے کار کا کاروبار کرنے والے ماہوار کرائے کی بنیاد پر نئے اور پرانے ماڈلوں  کی کاریں لانگ روٹس پر مسافروں کو لانے کیجانے کے لیے حوالے کی بنیاد پر دے رہے ہیں اور کچھ کار مالکان انفرادی سطح پر خود لانگ روٹوں پر اپنی گاڑیاں چلارہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ کرونالاک ڈاون میں پبلک ٹرانسپورٹ سروس بند ہونے کی وجہ سے لانگ روٹس پربسیں چلانے والےبیروزگار ڈرائیورز کی ایک بڑی تعداد نے رینٹ اے کار والوں ہفتہ وار یا ماہوار بنیادوں پر گاڑیاں لیکر فی فرد کرائے کی بنیاد پر چلانا شروع کردیا ہے۔ اس طرح سے لاک ڈاون کے دوران بھی ضرورت مند مسافروں کی اندرون ملک ویگو، پراڈو، کرولا جی ایل آئی، ایکس ایل آئی سمیت دیگر اقسام کی نجی کاروں کے ذریعے منظم انداز میں کراچی آمد ورفت جاری ہے۔

ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ ضرورت مند مسافروں کو کراچی سے ملتان، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، پشاور، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور بٹگرام تک پہنچانے کے لیے فی سواری بالترتیب  15سے 17ہزار روپے وصول کیے جارہے ہیں جبکہ مزکورہ شہروں سے کراچی آنے والے مسافروں سے بالترتیب 5ہزار روپے سے 7ہزار روپے فی مسافر وصول کیاجارہاہے۔ ذرائع نے بتایاکہ ان نجی کاروں میں پرانے ماڈل کی کرولا جی ایل آئی اور ایکس ایل آئی کاروں کو لانگ روٹس پر بھی سی این جی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ کاروں اور ویگو میں 4 مسافر جبکہ پراڈو سمیت دیگر بڑی گاڑیوں میں 6 تا 8 مسافروں کو لایا جارہا ہے۔

لانگ روٹس پر کمرشل بنیادوں پر چلائی جانے والی مزکورہ کاریں موٹروے کا روٹ استعمال کررہی ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ ملک بھر کے ائیرپورٹس پر چلنے والی کیب کمپنیوں نے بھی فضائی مسافروں کی آمدورفت بند ہونے کے سبب اندرون شہر اور بیرون شہررعایتی ٹیرف کے ساتھ آمدورفت کی پیشکش کردی ہے۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران رینٹ  اے کار کی ڈیمانڈ مزید بڑھگئی ہے جس سے اس بات کا امکان ہے کہ عیدالفطر تک ان کاروں کے ذریعے آمدورفت کا حجم مزید بڑھ جانے سے انکے کرایوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔

(function(d, s, id){
var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];
if (d.getElementById(id)) {return;}
js = d.createElement(s); js.id = id;
js.src = "https://connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&version=v2.3&appId=770767426360150”;
fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);
}(document, ‘script’, ‘facebook-jssdk’));
(function(d, s, id) {
var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];
if (d.getElementById(id)) return;
js = d.createElement(s); js.id = id;
js.src = "https://connect.facebook.net/en_GB/sdk.js#xfbml=1&version=v2.7”;
fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);
}(document, ‘script’, ‘facebook-jssdk’));

[ad_2]
Source link

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button