اخبارسب کے لیے سب کچھ

موٹروے زیادتی کا موسٹ وانٹڈ اب بھی آزاد ، کون کون پکڑا گیا اور اس نے کیا بتایا؟

لاہور:موٹر وے زئادتی کے واقعے کو آج 9 واں دن ہے ،لیکن پاکستان کو موسٹ وانٹڈ شخص کو پولیس گرفتار نہیں کر سکی ۔ 

پولیس کا کہنا ہے کہ موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد علی ملہی کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے۔تاہم پاکستان کا موسٹ وانٹڈ شخص اور کیس کا مرکزی ملزم عابد اب تک قانون کے شکنجے میں نہیں آسکا۔

موٹر وے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم عابد گرفتار نہ ہو سکا تاہم والدہ کے بعد اس کی بیوی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

موٹر وے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری کے لیے رات گئے قصور میں سرچ آپریشن کیا گیا اور 2 کلو میٹر پر پھیلے کھیتوں کو گھیرے میں لے کر تلاشی لی گئی تاہم مرکزی ملزم پھر بھی ہاتھ نہ آ سکا۔ کیس میں اب تک خاتون سمیت ملزم عابد کے 5 رشتے دار زیر حراست ہیں۔ عابد کی بیوی بشریٰ بی بی کو مانگامنڈی سے حراست میں لیا گیا ہے، وہ قلعہ ستار شاہ میں ملزم عابد کی تلاش میں پولیس چھاپے کے دوران فرار ہو گئی تھی۔

پولیس ذرائع کے مطابق بشری بی بی نے عابد سے دوسری شادی کی تھی، پہلے شوہر عبد سے اس کی ایک بیٹی ہے، بشری کا تعلق تحصیل تاندلیانوالہ ضلع فیصل آباد سے ہے۔ پولیس کا کہنا ہے زیرحراست افراد کا 2 روز پہلے عابد سے رابطہ ہوا تھا۔

واقعے کے بعد سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے میڈیا سے گفتگو میں دعوے سے کہا تھا کہ بہت جلد تمام کے تمام ملزم پولیس کی گرفت میں ہوں گے۔ دو دن پہلے انھوں نے کہا تھا کہ موٹروے زیادتی کیس ان کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے اور وہ اس میں کامیاب ہوں گے ۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم عابد کا بہنوئی اور تین رشتے دار پولیس حراست میں ہیں جن سے ملزمان کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

لاہور: گجر پورہ زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد کی اہلیہ بشرٰی نے پولیس کو ابتدائی بیان دے دیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابدعلی کی اہلیہ بشریٰ نے پولیس کو ابتدائی بیان دے دیا ہے اور کہا ہے کہ عابد کہاں ہے مجھے علم نہیں

بشریٰ بی بی کا کہنا ہے کہ واقعہ گجر پورہ کے بعد میں خوف کے مارے گھر سے بھاگ گئی، اور مانگا منڈی کے علاقہ میں روپوش ہوگئی، تاہم میں اور عابد اکٹھے گھر سے نہیں بھاگے وہ کہاں گیا مجھے کچھ پتہ نہیں۔ پولیس کے مطابق تفتیشی ٹیم کی بشریٰ بی بی سے مزید تفتیش جاری ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پولیس نے کیس کے مرکزی ملزم عابد کی بیوی بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا تھا۔ بشری بی بی قلعہ ستار سنگھ ریڈ میں فرار ہوگئی تھی تاہم اسے مانگا منڈی سے حراست میں لیا گیا، بشری بی بی نے عابد کے ساتھ دوسری شادی کی تھی۔

پس منظر؛

گجر پورہ کے علاقے میں موٹروے پر ایک ہفتے قبل انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا تھا جہاں پر مدد کے انتظار میں کھڑی ایک خاتون کو دو افراد نے اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اور خاتون سے ایک لاکھ نقدی ، 2 تولے طلائی زیورات، ایک عدد برسلیٹ، گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ اور 3 اے ٹی ایم کارڈز لے کر فرار ہو گئے تھے

موٹروے زیادتی کیس میں گرفتار ملزم شفقت کے خاتون سے زیادتی کے اعتراف کے بعد عدالت نے اس کا چھ روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے ۔ جبکہ  موٹروے زیادتی کیس میں مرکزی ملزم عابد اور شفقت کے تیسرے مبینہ ساتھی بالا مستری کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

پولیس کے مطابق بالا مستری کو چیچہ وطنی میں کارروائی کرکے حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہےکہ بالا مستری بھی مرکزی ملزم عابد کے ساتھ مختلف وارداتوں میں شریک رہا ہے، ملزم شفقت، عابد اور بالا مستری نے مل کر تقریباً 11 وارداتیں کیں۔ پولیس کے مطابق ملزم بالا مستری نے بتایا کہ وہ عابد اور شفقت کے ساتھ مل کر کرول گاؤں کے قریب لوٹ مار کرتے تھے جہاں وہ درخت کے تنے سڑک پر رکھ کر گاڑیاں روکتے تھے اور ان میں موجود شہریوں سے وارداتیں کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے مزید بتایا کہ موٹروے پر وہ بھی عابد اور شفقت کے ساتھ واردات کی نیت سے ہی نکلا تھا لیکن آدھے راستے سے ہی واپس چلا گیا۔

ملزم شفقت کا 6 روز کے جسمانی ریمانڈ

لاہور کی سیشن کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی جس میں پولیس نے ملزم شفقت کو عدالت کے روبرو پیش کیا۔ پولیس نے عدالت کوبتایا کہ واقعے کا مقدمہ خاتون کے عزیز سردار شہزاد کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ تھانہ گوجرپورہ میں درج مقدمے میں اس سے قبل 376 اور 392 دفعات لگائی گئی تھیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس پر مختصر کارروائی کے بعد ملزم شفقت کو 6 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

ملزم کا اعتراف

لاہور سیالکوٹ موٹر وے زیادتی کیس میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب اتوار کو دیپال پور سے گرفتار کیے گئے ملزم شفقت علی نے پولیس حراست میں اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ ملزم شفقت کا ڈی این اے بھی خاتون سے ملے ڈی این اے کے نمونوں سے میچ کرگیا ہے۔

پنجاب پولیس کے محکمہ سی ٹی ڈی نےخود گرفتاری دینے والے ملزم وقار الحسن کی نشاندہی پر دیپالپور میں کارروائی کی اور شفقت نامی شخص کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دیپالپور سے حراست میں لیے گئے ملزم شفقت نے دورانِ تفتیش خاتون سے زیادتی کا اعتراف کرلیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ اور ملزم عابد ڈکیتی کی غرض سے موٹروے پر موجود تھے جہاں انہوں نے ایک کار کو دیکھا تو کار کی ریکی کی۔ ذرائع کے مطابق شفقت نے مزید بتایا کہ وہ اور عابد ڈکیتی کی غرض سے کار کے پاس گئے جہاں انہوں نے پہلے خاتون سے لوٹ مار کی اور پھر نیچے کھائی میں لے جاکر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق ملزم شفقت کا پہلے سے بھی کرمنل ریکارڈ موجود ہے اور وہ ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ملزم شفقت کا ڈی این اے بینک میں پہلے سے ڈی این اے موجود نہیں تھا تاہم پولیس کی جانب سے شفقت کا فوری ڈی این اے کرایا گیا جو میچ کرگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزم شفقت ماضی میں بھی اجتماعی زیادتی کے واقعات میں ملوث رہا ہے لیکن پولیس کے پاس ملزم کا ریکارڈ نہیں تھا۔

وقار الحسن کا بیان

اس سے قبل گزشتہ روز موٹر وے زیادتی کیس میں خود گرفتاری پیش کرنے والے ملزم وقار الحسن نے زیر حراست ایک اہم انکشاف کیا تھا۔ وقار الحسن نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا کہ کیس کا مرکزی ملزم عابد ایک عرصے سے شفقت نامی شخص کے ساتھ وارداتیں کر رہا ہے، شفقت بہاولنگر کا رہائشی اور عابد کا دوست ہے۔

وقارالحسن کے سالے نے بھی گرفتاری دے دی

علاوہ ازیں موٹر وے زیادتی کیس میں خود پولیس کو اپنی گرفتاری پیش کرنے والے ملزم وقار الحسن کے سالے عباس نے بھی اپنی گرفتاری دیدی۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ عباس نے شیخوپورہ میں خود کو پولیس کے حوالے کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم وقار الحسن نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا تھا کہ اس کا سالہ عباس اس کے نام پر جاری ہونے والی سم استعمال کر رہا تھا۔

موٹروے پر واقعہ کب پیش آیا؟

۔

۔9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

ایف آئی آر میں کیا کہا گیا؟

ایف آئی آر کےمطابق گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون رات کو تقریباً ڈیڑھ بجے اپنی کار میں اپنے دو بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ واپس جا رہی تھی کہ رنگ روڈ پر گجر پورہ کے نزدیک اسکی کار کا پیٹرول ختم ہو گیا۔

کار کا پٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر خاتون شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔

جب گاڑی بند تھی تو خاتون نے موٹروے پولیس کو بھی فون کیا مگر موٹر وے پولیس نے مبینہ طور پر کہا کہ کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی۔

ایف آئی آر کے مطابق اتنی دیر میں دو مسلح افراد موٹر وے سے ملحقہ جنگل سے آئےاور کار کا شیشہ توڑ کر زبردستی خاتون اور اس کے بچوں کو نزدیک جنگل میں لے گئے جہاں ڈاکوؤں نے خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس سے طلائی زیور اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔

خاتون کی حالت خراب ہونے پر اسے اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے ۔ خاتون کی طبی ملاحظے کی رپورٹ فرانزک کے لیے بھجوا دی گئی ہے جبکہ خاتون کے رشتے دار کی مدعیت میں پولیس نےمقدمہ درج کر لیا۔

پولیس کے مطابق زیادتی کا شکار خاتون کے میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button