اخباربلاگ ولاگ

کیا آپ کو پتہ ہے؟۔ تحریر :مدثر رانا

میں اپنی بیوی کے ویژن کو بہت مانتا ہوں۔ اب وہ کہتی ہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ پنجاب کا اگلا آئی جی ہے۔ اور جتنا عمران خان کو میں جانتا ہوں وہ ٹھیک ہی کہتی ہے۔ لیکن اعلیٰ جرنلسٹک سینس رکھنے والی میری بیوی یہ بھی کہتی ہے کہ اکیسویں گریڈ کے لیے نااہل پانے والے عمر شیخ کو آئی جی بنانے میں اتنا کردار عمران خان کے ویژن کا نہیں ہو گا جتنا ن لیگ کا۔ مجھے لگتا ہے کہتی وہ یہ بھی ٹھیک ہی ہے۔ بھلا قبضے کے معاملے کو موٹر وے کہانی تک لانا اور پھر سارا زور سی سی پی او کو ہٹوانے کے لیے لگانا کسی عام ذہن کا کام تو ہو نہیں سکتا۔ ہم صحافتی شعبے میں جبری چھٹیاں گزارنے والےمیاں بیوی میں اس موضوع پر بات ہو ہی رہی تھی کہ وٹس ایپ کی گھنٹی بجی ، دیکھا تو ایک دوست نے سینئر صحافی عابد عبداللہ صاحب کا فیس بُک لِنک سینڈ کیا تھا۔ تحریر پڑھی تو لگا بڑی عمر ہے عمر شیخ کی۔ ابھی سی سی پی او کی بات ہو رہی تھی اور ان کے گرد گھومتی تحریر بھی آ گئی۔ اس میں ن لیگ کا ذکر بھی تھا اور موٹر وے واقعے سے متعلق نئے زاویئے بھی۔ تحریر دماغ میں ٹنا ٹن گھنٹیاں بجا رہی تھی کہ دال میں کچھ کالا تو ضرور ہے۔ پھر میں نے سوچا ہو سکتا ہے سر شام یہ اُن کہانیوں کا اثر ہو جو دن میں گوجرانوالہ سے آئے صحافی دوستوں نے ڈی سی کالونی کی ایک ایئرہوسٹس کے بارے میں سنائی تھیں۔ اس کہانی کا ایک کردار سردار شہزاد کون تھا یہ مجھے پہلے ہی پتہ تھا۔ البتہ یہ نہیں پتہ تھا کہ وہ ث کا دوست تھا یا ث کے دوست الف ب ج میں سے کسی کا یار تھا۔ اگر وہ ج جنید کا دوست تھا تو سانحے کے بعد ث نے اسے یعنی سردار شہزاد کو کیوں فون کیا تھا۔ ہاں اس وقت تک یہ مجھے پتہ چل چکا تھا کہ ملزم شفقت اپنی سِم کولڈ سٹوریج میں ساتھ کام کرنے والے فیصل کے موبائل میں ڈال کے مرکزی ملزم عابد کو کال نہ کرتا تو پکڑا نہ جاتا۔ اور عابد ملہی اس کال کے بعد اپنا فون مستقل بند نہ کر دیتا تو اب تک پکڑا گیا ہوتا۔ ہاں البتہ یہ مجھے اب بھی نہیں پتہ کہ ٹول پلازہ کراس کرنے سے پہلے ہی اگر گاڑی بِیپ کے ساتھ انڈیکیشن دے رہی تھی تو دو کلومیٹر آگے کا سفر طے کر کے ٹینکی پوری طرح خالی کرنے کی کوئی خاص وجہ رہی تھی یا بس ویسے ہی یہ چیک کرنا مقصود تھا کہ ریزرو لگنے کے بعد ہنڈا سِوک پٹرول ختم ہونے کی بِیپ کب دینے لگتی ہے۔ اور پھر مسلسل بِیپ کے بعد بھی کتنے کلو میٹر چل ہی جاتی ہے۔ خیر پتہ تو مجھے ابھی یہ بھی نہیں ہے کہ اشتہاری قرار پانے کے بعد متاثرہ خاتون کی طرف سے بے گناہ قرار دیئے گئے وقار الحسن کے زیر حراست سالے عباس ، بہنوئی ،چار بھائیوں اور باپ کی اگلی منزل اب کیا ہو گی۔ ہاں پنجاب کے وزیر اطلاعات کی اس اطلاع کے بعد کہ مرکزی ملزم عابد ملہی کا سارا خاندان ہی چوروں اور ڈکیتوں کا ہے پولیس کے پاس موجود ملزم عابد ملہی کی بیٹی اور بھابھی کی اگلی منزلوں کا کچھ کچھ پتہ سب کو ہی چل رہا ہو گا۔ باالکل ایسےجیسے سی سی پی اور لاہور اس سے پہلے کہاں کہاں کون کون سے کیس چُٹکی بجاتے ہی حل کر چکے ہیں یہ صرف مایہ ناز صحافی ارشاد بھٹی کو ہی پتہ ہے۔ البتہ عمر شیخ کے ان کیسوں میں پکڑے مجرموں کا انجام کیا ہوا ؟ یہ ارشاد بھٹی کو بھی نہیں پتہ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button