اخباربلاگ ولاگ

کچھ تو نیا کیجیئے۔۔۔ تحریر مدثر رانا

 

نئے پاکستان میں کچھ تو نیا کیجیئے۔ یہ سیاسی باب ، یہ نیب کا احتساب،  پرانے مال پہ نئے ریپر کا شباب، اور یہ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے بیان بازی کا عذاب ،،، سب پرانا ہے ۔کہ سیف الرحمان  کےدوراحتساب میں عثمان فاروقی کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ ان کی اہلیہ انیسہ فاروقی اور بیٹی  شرمیلا فاروقی سے  کی گئی تفتیش سے شروع ہونے والی بات اب شہباز شریف کی گرفتاری سے ہوتی ہوئی  ان کی بیگم نصرت شہباز اور بیٹیوں رابعہ علی اور جویریہ علی کے وارنٹ تک آ پہنچی ہے۔ نئے پاکستان میں کچھ اورنیا نہیں کر سکتے تو پرانی سیاست میں بہنوں بیٹوں کا سٹیٹس ہی نیا کر دیں ۔  کم ازکم یہ ضرورت کر دیں کیونکہ آپ بھی بہنوں بیٹیوں والے ہیں ،،،اور سدا کی بادشاہی صرف خدا ہی کی ہے۔

ووٹ کا نیا نیا حق پانے والے نئی نسل کے نوجوانوں ، کبھی وقت ملے تو میری عمر کےجوانوں سے ملنا اور مل کےپوچھناکہ ہمارے بڑے بوڑھے کیا بتاتے تھے ۔پرانے وقتوں میں سفید بالوں والے بزرگ    بن سنور کر بار بار آئینہ دیکھنے والے نوجوانوں کو پاس بلاتے اورسمجھاتے  کہ بیٹا ،بہنیں بیٹیاں  سب کی سانجھی ہوتی ہیں  ۔ ہو سکے تو کبھی اپنے بزرگوں سے ہی پوچھ لینا کہ انھوں نے بھی کبھی کسی کو ووٹ دیا ہوگا۔وہ بتائیں گے کہ ان کے دور میں بھی یہ سب کچھ ہوتا رہا تھا ، بلکہ ان کے بڑوں کے دور میں بھی سیاست کچھ ایسی ہی تھی ۔جب پرانا  پاکستان نیا نیا بنا تھا تب بھی حالات نئے پاکستان سےزیادہ مختلف نہیں تھے ۔سرکاری خزانہ خالی تھا ،اور لُٹے پُٹے ہجرت کرکے آنے والےعوام کے ہاتھ بھی،،، لیکن جنھوں نے باڈر پار اپنی بہنیں بیٹیاں  کھوئیں تھیں وہ دوسروں کی بہنوں بیٹیوں کو بھی اپنی بہن بیٹیاں ہی سمجھتے تھے۔یہ سیاست ہی تھی جو درمیان میں آ گئی تھی اور اِک الیکشن لڑنے پر بانی پاکستان کی بہن کوکہنے والوں نے کیا کیا نہ کہا تھا۔سیاسی مخالفوں نے فاطمہ جناح کے خلاف باقاعدہ ایک مہم چلائی تھی ،،،اور  پھر یہی روایت آتے آتے بے نظیر بھٹو تک آئی تھی ۔ہر دور میں حکومت کا حصہ  رہنے والے شیخ صاحب کو بھی وہ دور یاد تو ہوگا، اور وہ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ آدمی جو کہتا ہے آدمی جو سنتا ہے ،زندگی بھر وہ صدائیں پیچھا کرتی ہیں ۔نئےخیبرپختونخوا اور پُرانے صوبہ سرحد میں گورنر سے وزیر اعلیٰ تک رہنے والے ایک پرانے سیاستدان سے  پُرانے وقتوں میں  ایک صحافی نے پوچھا تھا کہ ارباب صاحب آپ حکومت میں رہنے کےلیے ہر دفعہ پارٹی کیوں بدل لیتے ہیں  تو ان کا جواب تھا کہ ہم نے تو عوام کی خدمت کرنی ہے جس پلیٹ فارم سے موقع مل جائے اور اس کے لیے جو بھی کرنا پڑ جائے۔

اچھا کاپی پیسٹ کی یہ روایت صرف سیاست میں ہی نہیں ہے ،زندگی کے باقی شعبوں کی طرح صحافت میں بھی یہی روایت ہے۔پرانے پاکستان میں ہمارے ایک دوست تھے جنھوں نے کاپی پیسٹ میں بڑا نام کمایا ۔ایک ادارےمیں ان  کی اور میری نشست ساتھ ساتھ تھی ۔ اُن کے پاس جیسے خبر آتی ، ویسے ہی آگے چلی جاتی ،،، یہاں تک کہ ایک دن ڈائریکٹر نیوز کو آ کر کہنا پڑا کہ خان صاحب اور کچھ نہیں تو خبر میں ایک نقطہ ہی لگا دیا کریں تاکہ بطور ایڈیٹر خبر پر آپ کا نام تو آ جائے  ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button