Tickerاخبارسب کے لیے سب کچھ

وزیراعظم کو نواز شریف کیخلاف ایف آئی آر کا علم ہی نہ تھا، وفاقی وزیر،ایسے وزیر اعظم سے حکومت کیا چلے گی ، اپوزیشن رہنما

اسلام آباد / لاہور: وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے نواز شریف کیخلاف مقدمے کے اندراج پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

نوازشریف اور دیگر ن لیگی ارکان کیخلاف مجرمانہ سازش کی ایف آئی آر پر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کواس ایف آئی آر کا علم نہیں تھا جس میں نوازشریف اور دیگر کو نامزد کیا گیا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ’میں نے اس ایف آئی آرکا بتایا تووزیراعظم نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا‘۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہےکسی نے کارروائی ڈالنے کیلئے ایسا کیا ہو، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ بغاوت کے مقدمے بنانا تو حکومت کی پالیسی ہی نہیں، پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے سیاست کی شطرنج پر ابھی ہماری چال باقی ہے، نون لیگ پیادے بچائے شاہ اور وزیر کا کھیل ابھی دور ہے، جلدی کیا ہے ؟

ہمیں بلاوجہ ایک دوسرے کو غدارنہیں کہنا چاہئے‘ شاہ محمود

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہمیں بلاوجہ ایک دوسرے کو غدارنہیں کہنا چاہئے جبکہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن)کے رہنماءشاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو کسی بات کا علم نہیں ہوتا‘ان سے کیاحکومت چلے گی ۔ اکتوبر نومبر میں جلسے ہوں گے پھر ریلیاں ہوں گی اس کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہوگا‘تھوڑی تکلیف ہوگی لیکن بڑی خرابی سے نجات مل جائے گی۔

خیال رہے کہ لاہور کے تھانا شاہدرہ میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سمیت مسلم لیگ ن کے 40سے زائد نامزد رہ نماؤں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات مجرمانہ سازش کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج، ایف آئی آر کے مطابق نواز شریف نے اشتعال انگیز تقاریر کیں، ملک کے مقتدر اداروں کو بدنام کیا، بھارت کی پالیسیوں کی تائید کی تاکہ پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہی رہے۔

مقدمے میں مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق ،احسن اقبال، پرویز رشید، راجہ ظفر الحق، رانا ثنا اللہ، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ صلاح الدین ترمذی اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ سمیت ن لیگ کے 40 رہنما بھی نامزد کیے گئے ہیں۔

مقدمہ ایک شہری بدر رشید کی جانب سے تھانہ شاہدرہ میں پاکستان پینل کوڈ کی مجرمانہ سازش کی دفعات کے تحت درج کرایا گیا جس میں 40 سے زائد لیگی رہنماؤں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

مقدمے میں مریم نواز، راجہ ظفرالحق، شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق ،خرم دستگیر، اقبال ظفر جھگڑا، احسن اقبال، پرویز رشید، رانا ثناءاللہ، مفتاح اسماعیل، محمد زبیر، مریم اورنگزیب، عطااللہ تارڑ، برجیس طاہر ، عظمیٰ بخاری، شائستہ پرویز، سائرہ افضل تارڑ اور دانیال عزیز کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

شہری بدر رشید کی جانب سے ایف آئی آر میں  کہا گیا کہ مر یم نواز اور مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماؤں کا نواز شریف کی تقاریر کی تائید اور حمایت قانون کی گرفت کے زمرے میں آتا ہے۔

نواز شریف اور دیگر لیگی رہنماؤں کیخلاف درج ایف آئی آر کا متن

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے لندن میں پاکستان کے مقتدر اداروں کو بدنام کرنے کے لیے اشتعال انگیز تقاریر کیں، نواز شریف نے تقاریر میں دشمن ملک بھارت کی ڈیکلیئر پالیسی کی تائید کی۔

مقدمے میں کہا گیا کہ نواز شریف کی تقاریر کا مقصد بھارتی افواج کا کشمیر پر قبضے کی کارروائیوں اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے توجہ ہٹانا ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ نواز شریف کی تقاریر کا مقصد اپنے دوست بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بالواسطہ فائدہ پہنچانا ہے، نواز شریف کی تقاریر کا مقصد عالمی برادری میں پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں اور مسلح افواج کو بدنام کرنا ہے۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف بیرون ملک بیٹھ کر سازش کے تحت پاکستان اور ریاستی اداروں کو بدنام کر رہے ہیں، پاکستان کے قوانین کسی سزا یافتہ مجرم کو اپنی ضمانت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیتے، پاکستانی قوانین اجازت نہیں دیتے کہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی عوام کو افواج اور حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسایا جائے۔

مقدمے میں الزام لگایا گیا کہ نواز شریف نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاسوں میں اپنی تقاریر میں دشمن ملک بھارت کی ڈیکلیئرڈ پالیسی کی تائید کی۔

یہ مقدمہ بدر رشید نامی شہری کی جانب سے یکم اکتوبر 2020ء کو مجرمانہ سازش کی دفعات کے تحت درج کرایا گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button